وزیراعلیٰ
پنجاب الیکشن کیس: سپریم کورٹ نے سیاستدانوں، وزراء کے داخلے پر پابندی لگا دی
اسلام
آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پیر کو وزراء اور سیاستدانوں کو اس کے احاطے میں
داخل ہونے سے روک دیا کیونکہ عدالت وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران ڈپٹی سپیکر
پنجاب اسمبلی کے فیصلے کے خلاف پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کرے گی۔
پیشرفت
سے باخبر ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں صرف درخواست گزاروں اور مدعا علیہان اور
ان کے وکلاء کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
انہوں
نے کہا کہ کسی وزیر کو عدالت عظمیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس
سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے کے خلاف
درخواست کی سماعت کے دوران بڑے سیاسی رہنما ممکنہ طور پر سپریم کورٹ میں موجود ہوں
گے۔
پی
ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری، شیریں مزاری، عمر ایوب،
بابر اعوان، پرویز خٹک اور عامر کیانی سپریم کورٹ کی کارروائی میں شرکت کریں گے۔
مسلم
لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، رانا ثناء اللہ کی بھی سپریم کورٹ میں پیشی
کا امکان ہے۔ نذیر تارڑ، احسن اقبال، سعد رفیق اور امیر مقام، ایاز صادق، عطا تارڑ
اور ملک احمد خان کی بھی عدالت میں پیشی متوقع ہے۔
مزید
پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب الیکشن: وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں فل کورٹ کے لیے
درخواست دائر کرے گی۔
پیپلز
پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی کے رہنما فضل الرحمان، مولانا اسد،
ایم کیو ایم پی کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی
بھی عدالت آئیں گے۔
بی
این پی کے اختر مینگل، اسلم بھوتانی کی بھی سپریم کورٹ میں پیشی کا امکان ہے جب کہ
ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ بھی سپریم کورٹ
آئیں گے۔
چوہدری
شجاعت کی سپریم کورٹ آمد کے حوالے سے سیکیورٹی کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے، وہ عدالت
میں اپنے خط کی تصدیق کریں گے، اس موقع پر سپریم کورٹ کے اندر اور باہر سیکیورٹی
کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔
0 Comments